سلسلہ دروسِ مہدویت: تربیتِ نسلِ مہدوی، نشست ۱ | نفاق کی پہچان، ظہور کے مقدمات میں سے ایک

مہدویت کے موضوع پر خطبات کا سلسلہ: عنوان «مہدوی نسل کی تربیت»
نفاق کی پہچان، ظہور کے مقدمات میں سے ایک اہم مقدمہ
شناسنامہ:
- وقت: ۱۴۰۳ھ ش
- مقام: فاطمیہ بزرگ تہران - ہیئت محبین مولا امیرالمؤمنین(ع)
- موضوع: مہدوی نسل کی تربیت (امامِ زمانہ(عج) کی معرفت اور آخرالزماں کی پہچان)
- آڈیو: یہاں سنیں
رسولِ خدا(ص) پر اعتقاد؛ دین کا بنیادی اور اصل مسئلہ
تاریخِ اسلام میں اصل کشمکش خدا کے وجود کے اثبات، دینداری کی ضرورت یا معاد کے بارے میں نہیں رہی ہے۔ عام طور پر لوگوں کو دین کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں رہا اور دین فطری طور پر ہمیشہ موجود رہا ہے۔ اصل کشمکش اور اصل مسئلہ رسولِ خدا کی عظمتِ وجودی پر ہے۔
رسولِ خدا(ص) کی عظمت و بزرگی صرف آپ کے زمانے یا آپ کے دور کے لوگوں سے مخصوص نہیں ہے، تمام انبیاء آپ کے منتظر تھے اور آپ کی روحِ مطہر کے ساتھ ہم کلام ہوتے تھے، اور قرآنِ مجید کے نصِّ صریح کے مطابق، وہ لوگوں سے آخری پیغمبر پر ایمان لانے کا پختہ عہد لیا کرتے تھے۔ ہمیں پیغمبرِ اکرم(ص) کے ساتھ دلی اور قلبی تعلق قائم کرنا چاہیے۔ درحقیقت، ہم فرزندانِ پیغمبر(ص) اور اپنے ائمہ معصومین(ع) سے جو بھی محبت رکھتے ہیں، وہ ان کے وجود کے نورِ مقدس کی بدولت ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ تمام اولیاءِ خدا دراصل پیغمبرِ اکرم(ص) کے نورِ مقدس ہی کی کرنیں اور تجلیات ہیں۔ ہم رسولِ خدا(ص) سے محبت اور عقیدت کو دین کے ایک عظیم راز اور بنیادی مسئلے کے طور پر بیان کر سکتے ہیں۔
رسولِ خدا(ص) پر ایمان کی حقیقت، عینِ خدا پر ایمان ہے!
خدا پر ایمان لانے کا حقیقی معیار، رسولِ خدا(ص) پر ایمان لانا ہے۔ لہٰذا حضرتِ ختمی مرتبت کی ذاتِ گرامی کے ساتھ تعلق استوار کرنا لازمی ہے۔ پیغمبرِ اکرم(ص) کی اطاعت دراصل اس بات کی علامت و میزان ہے کہ ہم نے خدا کو دل سے مانا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ اگر تم پیغمبر کی اطاعت تو کرو لیکن اطاعت کے وقت تمہارے دل کے نہاں خانے میں ذرا سی بھی تنگی یا بے چینی ہو، تو خدا کی قسم تم ایمان نہیں لائے (سورۂ نساء، آیت 65)۔ رسولِ خدا پر ایمان کی حقیقت اور باطن، خدا پر ایمان ہی ہے۔ ہم کیسے جانیں کہ ہم سچے ہیں اور واقعی خدا پر ایمان رکھتے ہیں؟ اس کا واحد پیمانہ رسولِ خدا پر ایمان ہے۔
پیغمبرِ اکرم(ص) کی ذات سے تعلق اور آپ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی ضرورت
ہم اس یقین اور قلبی ایمان تک کیسے پہنچیں؟ کیا پیغمبر کے معجزات دیکھ کر؟ دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، آپ کا نامِ مبارک سننا اور آپ کی تاریخ و سیرت کا مطالعہ ہی ہمارے دلوں میں یہ انقلاب برپا کرنے کے لیے کافی ہے۔ روحِ پیغمبرِ اکرم(ص) بے حد بلند و عظیم ہے اور خداوندِ متعال نے اس پرعظمت شخصیت کے ساتھ قلبی ربط قائم کرنے کے لیے ہی آپ کی اولادِ پاک کو ہمارے پاس بھیجا ہے۔ وہ سب رسولِ خدا کے سچے نمائندے اور سفیر ہیں۔
پس رسولِ خدا کی ذاتِ اقدس سے تعلق جوڑنا اور آپ کی شخصیت کی عظمت کا دل سے قائل ہونا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ قرآنی آیات کی روشنی میں مسلمان ہونے کی اصل تفسیر یہی ہے کہ انسان امرِ رسولِ خدا(ص) کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے۔ «فَلاَ وَ رَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُونَ حَتَّیَ یُحَکِّمُوکَ فِیمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُواْ فِی أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُواْ تَسْلِیمًا؛ تیرے پروردگار کی قسم! یہ لوگ ہرگز مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی تنازعات میں آپ کو حَکَم نہ بنا لیں؛ پھر جو فیصلہ آپ فرما دیں، اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں؛ اور پوری طرح سرِ تسلیم خم کر دیں (سورۂ نساء، آیت 65)»؛ آپ کے حکم کے آگے تسلیم ہو جائیں، اور کیا ہی کامل تسلیم ہونا! حقیقی مسلمان اسی کو کہتے ہیں۔ پس پیغمبرِ اکرم(ص) کی ذات پر ایمان لانا اور آپ کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ ہمیں اس حقیقت کی تصدیق کرنی چاہیے کہ خدا آپ سے ہم کلام ہوتا تھا اور آپ اللہ کی بارگاہ میں بے پناہ عزیز و محبوب تھے۔
نفاق کا فتنہ، رسولِ خدا(ص) کے بعد کے زمانے میں بھی باقی رہا
پیغمبر اکرم (ص) جب پرچم حق بلند کرتے ہیں اور اپنی رسالت کا ابلاغ فرماتے ہیں، تو معاشرے کو گہرے طور پر متاثر کرتے ہیں اور اس کے مقابلے میں کچھ قوتیں مزاحمت کرتی ہیں۔ تمام اقتدار کے بھوکے اور ان اقتدار پرستوں کے ساتھ جڑے ہوئے تمام کمزور لوگ، پیغمبر کے سامنے آ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
پیغمبر اکرم (ص) نے چند ہی برسوں میں مشرکین اور کافروں کو کمزور کر کے اس مرحلے کو عبور کر لیا، یہاں تک کہ حالات ’’نفاق‘‘ نامی ایک نئے مظہر اور فتنے تک پہنچ گئے۔ پیغمبر اکرم (ص) کی اس حدیثِ مبارکہ کے مطابق جس میں آپ نے فرمایا: " إنّی لا أتَخَوَّفُ على اُمَّتی مُؤمِنا و لا مُشرِکا، أمّا المُؤمنُ فیَحجُرُهُ إیمانُهُ ، و أمّا المُشرِکُ فیَقمَعُهُ کُفرُهُ، و لکن أتَخَوَّفُ علَیکُم مُنافِقا عالِمَ اللِّسانِ ؛ یَقولُ ما تَعرِفونَ ، و یَعمَلُ ما تُنکِرونَ (کنز العمّال، حدیث 29046)؛ میں اپنی امت کے بارے میں نہ کسی مومن سے ڈرتا ہوں اور نہ کسی مشرک سے؛ کیونکہ مومن کو اس کا ایمان [اسلامی معاشرے کو نقصان پہنچانے سے] روک دیتا ہے اور مشرک کو اس کا کفر ہی سرنگوں کر دیتا ہے۔ لیکن مجھے تمہارے بارے میں اس چرب زبان منافق کا خوف ہے جو باتیں تو وہ کرتا ہے جنہیں تم درست سمجھتے ہو، لیکن کام وہ کرتا ہے جنہیں تم ناپسند کرتے ہو۔" پیغمبر فرماتے ہیں کہ مجھے اپنی امت کے لیے منافق کا ڈر ہے۔ نفاق کا یہ فتنہ رسولِ خدا کے زمانے میں باقی رہا۔ آپ کے بعد بھی اسی پدیدۂ نفاق نے اولیائے الٰہی اور فرزندانِ رسول (ص) پر بے شمار مصائب ڈھائے۔
امام زمانہ (عج) کے ظہور کے وقت، پوری کائنات نور، آبادی اور عدل و انصاف سے بھر جائے گی۔ آپ تمام تر خوبیوں کو جہان میں پھیلا دیں گے، کیونکہ نفاق کا دور ختم ہو جائے گا اور ’’تُذِلُّ بِهَا النِّفَاقَ وَ أَهْلَهُ‘‘ (دعائے افتتاح کا ایک جملہ) کی عملی تعبیر سامنے آئے گی۔
حضرت رسول اکرم (ص) نے اپنی بے پناہ عظمت اور اثر و نفوذ سے شرک کی کمر توڑ دی اور امتِ اسلامی کی بنیاد رکھ کر اسے پروان چڑھایا۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ نفاق پھر بھی باقی رہا اور آپ کے بعد اس نے کیسے کیسے کاری وار کیے۔ یہی نفاق ابا عبداللہ الحسین (ع) کا سرِ اقدس تن سے جدا کرتا ہے اور ان کے اہلِ حرم کو اسیر بناتا ہے۔ یہ نفاق ایک ایسا فتنہ ہے جسے بڑی باریک بینی سے پہچاننا ضروری ہے۔
رسولِ خدا (ص) کے زمانے میں نفاق کی اقسام
رسولِ خدا (ص) کے مقابلے میں نفاق کے کئی مراحل تھے۔
پہلا مرحلہ تخریب کار اور بگاڑ پیدا کرنے والا نفاق تھا؛ یعنی وہ لوگ جو امتِ اسلامیہ کے وجود میں آنے کے ہی مخالف تھے، جیسے عبداللہ بن ابی جس نے مسجدِ ضرار تعمیر کی۔ وہ سرے سے چاہتے ہی نہیں تھے کہ امتِ اسلامی تشکیل پائے اور وہ فقط اسلام کا دکھاوا کرتے تھے۔ یہ نفاق کا ایک مرحلہ تھا۔
دوسرا مرحلہ سر تسلیم خم کرنے والا نفاق ہے؛ وہ نفاق جس کا بس نہ چل سکا تو اس نے بظاہر ہتھیار ڈال دیے، جیسے ابو سفیان جو تسلیم ہو گیا اور مزید کھلی تخریب کاری نہ کر سکا۔
تیسرا مرحلہ غاصب اور قبضہ گیر نفاق ہے؛ وہ نفاق جس نے نہ تو کھلم کھلا تخریب کاری کی اور نہ ہی محض ہتھیار ڈالے، بلکہ اس نے یہ منصوبہ بنایا کہ پیغمبر کے بعد ان کی جانشینی پر قبضہ جما لے۔ اس نفاق نے سب سے گہرا وار کیا۔
آج ہمیں نفاق کی ان تینوں اقسام کے بارے میں بات کرنی چاہیے، کیونکہ ہمارا ہدف ایسی امت بننا ہے جو زمانے کے امام کے ظہور کے وقت نفاق کی رسوائی اور ذلت کا راستہ ہموار کرے۔
نفاق شناسی؛ ظہور کی زمینہ سازی کی ناگزیر ضرورت
امیر المومنین علی (ع) کو اشارتاً کنایتاً یہ کیوں کہنا پڑا کہ جس طرح رسولِ خدا (ص) کی رکاب میں منافق موجود تھے، اسی طرح میرے ہمراہ بھی منافق موجود ہیں؟ امام زمانہ (عج) کے دور میں نفاق ذلیل و خوار ہو جائے گا، اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں نفاق کو پہچاننا ہوگا!
رسولِ خدا (ص) کے دور کے نفاق کی جن تین اقسام کا ہم نے ذکر کیا، وہ آج بھی ہمارے اپنے معاشرے میں موجود ہیں اور ظہور کے لیے زمینہ سازی کی خاطر ہمیں ان تینوں کو پہچاننا ہوگا؛ کیونکہ ظہور کا مطلب ہی منافق اور نفاق کی ذلت و رسوائی ہے۔ ہمیں اس قسم کے تمام نفاق سے بیزاری اور تبرا اختیار کرنا ہوگا اور انہیں پہچاننا ہوگا، تبھی ہم ظہور کے لائق بن سکیں گے۔
نفاق کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے کلام سے مدد لیتا ہوں۔ آپؑ فرماتے ہیں: «قَطَعَ ظَهْرِی رَجُلاَنِ مِنَ اَلدُّنْیَا رَجُلٌ عَلِیمُ اَللِّسَانِ فَاسِقٌ وَ رَجُلٌ جَاهِلُ اَلْقَلْبِ نَاسِکٌ هَذَا یَصُدُّ بِلِسَانِهِ عَنْ فِسْقِهِ وَ هَذَا بِنُسُکِهِ عَنْ جَهْلِهِ فَاتَّقُوا اَلْفَاسِقَ مِنَ اَلْعُلَمَاءِ وَ اَلْجَاهِلَ مِنَ اَلْمُتَعَبِّدِینَ أُولَئِکَ فِتْنَةُ کُلِّ مَفْتُونٍ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَیْهِ وَ آلِهِ یَقُولُ یَا عَلِیُّ هَلاَکُ أُمَّتِی عَلَى یَدَیْ کُلِّ مُنَافِقٍ عَلِیمِ اَللِّسَانِ (خصال، جلد۱، ص۶۹)»؛ دنیا میں دو گروہوں نے میری کمر توڑ دی ہے۔ ایک؛ علیم اللسان منافق، وہ منافق جو چرب زبانی اور خوش بیانی سے دوسروں کو فریب دینا خوب جانتا ہے۔ دوسرا؛ متنسک احمق، یعنی وہ دیندار جو خود تو منافق نہیں لیکن ایک سادہ لوح انسان ہے۔ یہ دونوں جڑواں بھائیوں کی مانند آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ سادہ لوح لوگ منافقوں کو کھل کھیلنے کا موقع دیتے ہیں اور منافقین، سادہ لوح افراد کو فریب دیتے ہیں۔ اس طرح ان کا لشکر بڑا ہو جاتا ہے اور ایسے حالات میں وہ صاحبِ بصیرت مومن کو مظلوم و بے بس بنا دیتے ہیں۔
سادہ لوحی اور نفاق کی پہچان کی اہمیت
ہم ہر کسی کو آسانی سے ’منافق‘ تو نہیں کہہ سکتے، لیکن ’سادہ لوح‘ ضرور کہہ سکتے ہیں۔ ہمیں آخرالزماں میں سادہ لوح مومن نہیں بننا چاہیے، بلکہ ہمیں نفاق کو پہچاننا چاہیے اور منافق شناس ہونا چاہیے۔ بعض اوقات رہبر انقلاب اور حضرت امام خمینی (رہ) نے بعض افراد کو دوٹوک انداز میں مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ سادہ لوح ہیں۔ مجھے نظام کی عظیم شخصیات کے ایسے بیانات یاد ہیں جنہوں نے بعض ایسے سیاستدانوں کو، جنہوں نے واقعاً اس ملک کے ساتھ خیانت کی تھی، یہ فرمایا کہ آپ سادہ لوح ہیں۔ یہ بہترین تعبیر ہے۔ سادہ لوح انسان وہ ہوتا ہے جو نفاق کے جھانسے میں آ جاتا ہے اور بعض افراد کے اندر چھپے نفاق کو باور ہی نہیں کرتا۔
یہ فتنہ ہمارے معاشرے میں موجود ہے اور جب تک ظہور واقع نہیں ہو جاتا، ہم اس قسم کے فتنے کا شکار رہیں گے۔ ہمیں خود کو سادہ لوحی اور نفاق دونوں سے نجات دلانی ہوگی۔ ہمیں سادہ لوحی کو بھی پہچاننا ہوگا اور نفاق کو بھی۔
سلسلہ دروسِ مہدویت: تربیتِ نسلِ مہدوی، نشست ۱ | نفاق کی پہچان، ظہور کے مقدمات میں سے ایک
Now Playing (1 / 1)
تربیت نسل مهدوی/ج۹
Tags
Your feedback on this article
Share your thoughts, suggestions, or comments regarding this article.
