آڈیو | مہدوی نسل کی تربیت

بیان‌ها :: بیان های صوتی
Share:
آڈیو | مہدوی نسل کی تربیت

آڈیو | مہدوی نسل کی تربیت

کوائف

  • تاریخ و وقت: نشستوں کا آغاز شہریور ۱۴۰۳ش (ستمبر ۲۰۲۴ء) سے 
  • مقام: فاطمیۂ بزرگ تہران، ہیئت محبینِ مولا امیر المؤمنین(ع)
  • موضوع: مہدوی نسل کی تربیت (امامِ زمانہ(عج) کی معرفت اور آخرالزماں کی پہچان)
  • کل نشستیں: 22 نشستیں
  • متن: یہاں

 

پہلی نشست | (۱۴۰۳/۰۶/۳۰): نفاق کی شناخت، ظہور کے مقدمات میں سے ایک

فہرست:

  • دینداری کے لیے ذاتِ رسولِ خدا(ص) کو تسلیم کرنے کی اہمیت
    • خدا، انبیاء، معاد اور احکامِ دین کو ماننا چنداں مشکل نہیں ہے
    • سارا تنازع اس بات پر ہے کہ کیا پیامبر اکرم(ص) ہی وہ موعود نبی ہیں؟
    • اگر ہم رسول اکرم(ص) کے زمانے میں ہوتے، تو کیا یقین کر لیتے کہ وہ واقعی نبی ہیں؟
    • یہ سوال کہ آیا وہ وہی نبی ہیں، آج کے دور کا بھی اہم مسئلہ ہے
    • عظمتِ رسولِ خدا(ص) اور آپ پر سچا ایمان، اس زمانے کا بھی فکری چیلنج ہے
    • اولادِ پیامبر(ص) سے محبت، خود پیامبر اکرم(ص) کی ذات سے محبت کی بدولت ہے
  • ذاتِ پیامبر اکرم(ص) کے ساتھ قلبی تعلق کی اہمیت
    • اولیائے خدا سے تعلق کا فلسفہ، محبتِ رسولِ اکرم(ص) تک پہنچنا ہے
    • اصل بات، پیامبر اکرم(ص) کے ساتھ روحی اور ایمانی ربط قائم کرنا ہے
    •  ایمانِ بالرسول(ص)، ایمانِ باللہ کا بنیادی معیار ہے
    • مسلمانی کا اصل مفہوم پیامبر(ص) کے حکم کے آگے سرتسلیم خم کرنا ہے
    • جو شخص بھی ایمان لاتا، وہ یکایک اپنے دل میں پیامبر(ص) کی بے پایاں محبت پاتا تھا
  • پیامبر اکرم(ص) اپنی امت سے کیسی محبت رکھتے ہیں؟
    • پیامبر(ص) کے نزدیک معاشرے کی اہمیت اور طاقتور طبقات کی آپ سے مخالفت
  • پیامبر(ص) کے معاشرے میں منافقت کے پدیدے کا آغاز و ظہور
    • نفاق کا دور بھی کفر کے دور کی طرح بالآخر اپنے انجام کو پہنچے گا
    • ظہور کے وقت نفاق خوار و رسوا ہو جائے گا
  • رسول اکرم(ص) کے زمانے میں نفاق کے مختلف درجات اور اقسام
    • رسول اکرم(ص) کے عہد میں نفاق کی تین نمایاں اقسام
  • لوگوں کے لیے نفاق کی حقیقت کو پہچاننا ضروری ہے، مگر کسی پر بلاوجہ الزام نہیں لگانا چاہیے
  • ظہور کی زمینہ سازی کے لیے ان تینوں اقسام کے نفاق کو سمجھنا ناگزیر ہے
  • منافق انسان کبھی بھی امامِ زمانہ(عج) کی حقیقی معرفت حاصل نہیں کر سکتا

دوسری نشست | (۱۴۰۳/۰۷/۰۶): امامِ زمانہ(عج) پر یقین اور ان کی تصدیق کے لیے شہودِ قلبی کی اہمیت

فہرست:

  • امامِ زمانہ(عج) پر پختہ ایمان کے لیے شہودِ قلبی کی ضرورت
  • ہمارے دل کو ایسا ہونا چاہیے کہ امامِ زمانہ(عج) کا دیدار ہوتے ہی ان کی سچائی کی گواہی دے دے
  • کیا ہم ظہور کے وقت امامِ زمانہ(عج) کو پہچان پائیں گے؟  
  • ولیِ عصر(عج) کو قبول کرنے کی آمادگی ظہور سے پہلے پیدا کرنی چاہیے
  • ظہور سے قبل اپنے ایمان میں نکھار اور گہرائی لائیں
  • ظہور کے وقت اہل ایمان کو بہکانے کے لیے شیطان کی سرتوڑ کوششیں
  • امامِ زمانہ(عج) کے ساتھ قلبی و باطنی رابطے کی اہمیت   
  • ہمیں اپنے دل کو اس قدر شفاف و صیقلی بنانا چاہیے کہ امامِ زمانہ(عج) کے دوستوں کو بھی دل کی آنکھ سے پہچان لیں
  • ہم سب کو معرفتِ امامِ زمانہ(عج) کی شدید حاجت ہے
  • ہم ابھی تک امام کی شناخت اور تصدیق کی آزمائش سے نہیں گزرے ہیں
  • خیال رکھیں کہ ہمارے تمام تر رویے ولیِ عصر(عج) کی خوشنودی کے گرد گھومتے ہوں
  • اگر ہمیں بارگاہِ حضرت ولیِ عصر(عج) کی گہری معرفت حاصل ہو جائے، تو ان کے پیغامات ہم تک پہنچنے لگیں گے
  • شبِ عاشور رک جانے والے باوفا اصحاب وہ تھے جنہوں نے دل کی گہرائی سے جانا تھا کہ امام کی نصرت لازم ہے
  • ہمیں خود امام کی مدد و نصرت کی توفیق انہی کی بارگاہ سے مانگنی چاہیے
  • امامِ زمانہ(عج) کی قلبی معرفت کے کیا برکات اور فوائد ہیں؟

تیسری نشست | (۱۴۰۳/۰۷/۱۳): عہدِ ظہور میں باطنی پاکیزگی کا فیصلہ کن کردار

فہرست:

  • صفائے باطن؛ محورِ زندگی اور حیاتِ انسانی کا بنیادی و فیصلہ کن عنصر
  • ایمان اور صفائے باطن کا باہمی تناسب و تعلق
  • ایمان اور صفائے باطن کس طرح زندگی کو منظم و درست سمت دیتے ہیں؟
  • معاشرے میں دل کا اصفاء اور پاکیزگی ہی اصل ضابطہ کار اور فیصلہ کن عامل ہونی چاہیے
  • حضرت علی علیہ السلام نے معاشرے میں دولت کو معیار اور فیصلہ کن بننے سے روکا
  • دورِ ظہور میں صفائے باطن ہی فیصلہ کن ہوگی
  • آخر الزماں، صفائے باطن اور قساوتِ قلبی کے درمیان تقابل و معرکہ ہے
  • صفائے باطن؛ امام زمانہ (عج) کو دل سے قبول کرنے اور ان پر یقین لانے کا بنیادی ذریعہ
  •  آخر الزماں کے واقعات، مصائب اور مظلومیت ہمیں صفائے باطن تک پہنچاتے ہیں
  • صفائے باطن ہمیں ایک مجاہد اور پیکرِ مقاومت میں تبدیل کرتی ہے
    • پیکرِ مقاومت دوسروں کی خاطر خود کو قربان کرنے پر آمادہ رہتا ہے
  • سید حسن نصر اللہ کے صفائے باطن نے انہیں مظلوم کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے اور جان نثار کرنے پر آمادہ کیا
  • صفائے باطن کے حصول کے چند اہم عوامل
  • جس کے پاس صفائے باطن ہو، وہ تقویٰ کی مکمل پاسداری کرتا ہے
  • تقویٰ؛ صفائے باطن کا سبب بھی ہے اور اس کی علامت بھی
  • صفائے باطن کے فروغ کا بہترین اور اعلیٰ ترین ذریعہ روضہ و ذکرِ مصائب ہے
  • صفائے باطن کے لیے بہترین اذکار میں سے زیارتِ عاشورا ہے
  • صفائے باطن فردی اور اجتماعی زندگی پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟
  • صفائے باطن، اسلامی تمدن کی اساس و بنیاد
  • اربعین، صفائے باطن پر مبنی طرزِ زندگی

چوتھی نشست | (1403/07/20): ظہور کی بنیاد پر تربیت


فہرست:

  • ہماری آج کی سستی و کاہلی ہمارے دین کے شایانِ شان نہیں
  • ہمارا راستہ فتح و کامیابی کی جانب گامزن ہے
  • موجودہ حالات میں ہمارا سکون و اطمینان غفلت سے آلودہ نہیں ہونا چاہیے
  • آنے والی دنیا کے لیے پیشگی تیاری کی ضرورت
  • دنیا تغیر و تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے
  • نئے دور میں طاقت کے مراکز کی منتقلی
  • آج کا دور دینی اور سماجی شعور و بیداری کا وقت ہے
  • ہم اس امام کے دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں جن سے متعلق سب سے کم روایات اور تاریخی شواہد ہمارے پاس ہیں
  • ہم ایسے امام پر ایمان رکھتے ہیں جن کی معرفت ہم نے عقل و تفکر کے ذریعے حاصل کی ہے
  • آخر الزماں میں عقل و تعقل سے کام لینے کی ناگزیریت
  • ہمیں مباحثِ مہدویت پر زیادہ توجہ اور اہمیت دینی چاہیے
  • ہم نے مہدویت اور دنیا کے مستقبل پر بہت کم گفتگو کی ہے
  • مہدویت کے نظریے کو مسخ اور تحریف کرنے کی یہودی کوششیں
  •  ظہور کے سلسلے میں وہ ضروری حساسیت اور بیداری کیوں پیدا نہیں ہو رہی؟
  • ظہور کے معاملے میں اخباریوں جیسا سطحی اور جامد زاویۂ نظر نہ رکھیں
  • ہمیں معاشرے کی ضرورت کے اہم ترین معارف پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے
  • نشستوں کے منتخب موضوع کا تعارف
  • تربیتی نقطۂ نظر سے ظہور اور مابعد ظہور کی دنیا پر گفتگو
  • مہدوی نوجوانوں کی تربیت کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
  • ہمیں اپنے دور کی ترجیحات کی شناخت ہونی چاہیے
  • مہدوی نسل کی پرورش کے لیے ایک واضح تربیتی لائحۂ عمل اپنائیں
  • آخر الزماں میں کمزور دینی تربیت کے حوالے سے پیغمبر اکرم (ص) کی ایک حدیث
  • ہم ایک عظیم اور عالمگیر فتح کی دہلیز پر کھڑے ہیں لیکن اپنی زندگی کو اس کے مطابق منظم نہیں کرتے
  • ہمیں خود کو مسلسل جدوجہد اور میدانِ مبارزہ میں سمجھنا چاہیے
  • ظہور کی بنیاد پر تربیت ایک پُرکشش امر ہے
  • ظہور کے لیے تیاری ہماری عملی زندگی میں کہاں دکھائی دیتی ہے؟

پانچویں نشست | (1403/07/27): مفہومِ انتظار اور طاقت و سیاست سے اس کا تناسب

فہرست:
 

  • بارگاہِ الٰہی میں اعمال کی قبولیت ایک پوشیدہ امر
  • ہماری دینداری کا اصل معیار، امام زمانہ (عج) سے تعلق اور انتظار ہے
  • ہم جتنا آخر الزماں کے قریب پہنچتے ہیں، ایمان اتنا ہی عمیق اور معرفت پر مبنی ہوتا جاتا ہے
  • حضرت امام خمینی (رہ) انتظارِ فرج کو اسلام کی طاقت و اقتدار کے انتظار سے تعبیر فرماتے ہیں
    • جب اسلام طاقتور ہوگا تو مسلمان بھی طاقتور بنیں گے
  • انتظار کی وہ کیا حقیقت ہے جس کی ائمۂ ہدیٰ (ع) اتنی اہمیت بیان فرماتے ہیں؟
  • امام باقر علیہ السلام نے حارث بن مغیرہ کو انتظارِ فرج کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا؟
  • امر (حکومتِ الٰہیہ) کا انتظار وہ امر ہے جو ہمارے اندر انقلاب و تبدیلی برپا کرتا ہے
  • معنویت اور دینداری کا اصل نچوڑ اور جوہر، سیاست کے میدان میں ظاہر ہوتا ہے
  • ہمارے معاشرے کا دینی کلچر صرف عقائدی اور اخلاقی ہے، نہ کہ مہدوی
  • منتظر معاشرے کو دین کے کس پہلو کی سب سے زیادہ پاسداری کرنی چاہیے؟
  • منتظر کی تربیت کرنا اور محض مومن کی تربیت کرنا باہم مختلف ہیں!
  • ہمارے معاشرے میں رائج دینی تربیت، قرآنی تربیت نہیں ہے
    • تربیتی اصولوں کو قرآن سے ہی سیکھنا چاہیے
  • اگر ہم قرآن سے صحیح رہنمائی حاصل کریں تو ایک حقیقی مہدوی نسل پروان چڑھے گی

چھٹی نشست | (1403/08/04): منتظرانِ ظہور کے لیے سماجی تربیت کا مقام و اہمیت

فہرست:

  • انقلاب کے آغاز سے دینداری کے بنیادی چیلنجز
  • مارکسی اندازِ فکر اور مغرب پسندانہ زاویۂ نگاہ میں موجود دو چیلنجز کی تفہیم
  • آج دینداری کا بنیادی چیلنج کیا ہے؟
  • بے حسی اور انفرادیت پسندی، آج کی دینداری کا اصل مسئلہ
  • دین میں سماجی و معاشرتی تربیت کا مقام
  • سماجی تربیت میں مساجد اور مدارس کا کردار
  • امامِ زمانہ (عج) کے زیرِ سایہ زندگی کا بنیادی معیار
  • ذمہ دارانہ، مواسات اور ایثار و فداکاری پر مبنی سماجی زندگی
  • سماجی تعلیم و تربیت یعنی ظہور کے منتظرین کی پرورش
  • بے حجابی کی جڑ معاشرے کے تئیں غیر ذمہ داری میں ہے
  • حضرت زہرا (س) کے مصائب میں لوگوں کی بے حسی اور لا تعلقی کا اہم کردار
  • دشمن کا ہدف معاشرے میں افراد کو بے اثر بنانا ہے
  • مجالس و ہیئت میں جانا، سینہ زنی کرنا اور فریاد بلند کرنا؛ بے حس اور لاتعلق نہ ہونے کی علامت

ساتواں جلسہ | (۱۴۰۳/۰۸/۱۱): ظہور کے زمانے کی ایک مثالی زندگی کی خصوصیات کے مطابق اولاد کی تربیت

فہرست:

  • قرآنِ مجید میں بنی اسرائیل کے متعلق ایک اہم تجربہ
  • اضطراری اور مجبوری کے حالات میں اچھے بننے پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا
  • اگر آپ مجبور و لاچار نہ ہوں لیکن پھر بھی حق کے متلاشی رہیں، تو یہ مطلوب ہے
  • پیغمبرِ اکرم (ص) کے زمانے میں لوگ مضطر نہیں تھے اور ایمان بھی نہیں لاتے تھے
  • قومِ موسیٰ (ع) نے اس وقت ایمان لایا جب وہ حالتِ اضطرار و بیچارگی میں تھی
  • کیا ظہور کے وقت بھی ہمیں حالتِ اضطرار تک پہنچنا پڑے گا تاکہ امامِ زمانہ ظہور فرمائیں؟
  • صرف اضطرار و لاچاری کی حالت میں دعا کرنا مطلوب نہیں ہے
  • اضطرار اور اچھے حالات دونوں کا امتزاج ہونا چاہیے
  • موجودہ دور کی پیغمبرِ اکرم (ص) کے زمانے سے مشابہت
  • آج رفاہ و آسائش بھی ہے اور اضطرار بھی
  • اضطرار کے ادراک کے لیے معرفت کی ضرورت ہے
  • ظہور کے لیے کس قسم کا اضطرار درکار ہے؟
  • معرفتی اضطرار کی اہمیت
  • ہمیں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کرنی چاہیے کہ وہ معرفتی اضطرار کے حامل ہوں
  • ہمیں زندگی اور دنیا کے ادنیٰ ترین درجات پر قانع نہیں ہونا چاہیے
  • منتظِر فرد ہی ایک حقیقی منتظِر کی تربیت کر سکتا ہے
  • بچوں کی تربیت کس نصب العین و آدرش کے تحت کی جا سکتی ہے؟
  • دنیا کی پستی اور کم ترین زندگی پر راضی ہو جانا
  • ظہور کے لیے اعلیٰ مقاصد و آدرش پسندی کی اہمیت
  • صرف دیندار ہونا، دینی آدرش رکھنے سے مختلف ہے

آٹھواں جلسہ | (۱۴۰۳/۰۸/۱۸): مضبوط انسان کی تربیت اور معاشرے کے نظام کو چلانے کے لیے دین کا نمونۂ عمل

فہرست:

  • انسانوں کو کمزور کرنا، معاشرے کے نظم و نسق کے لیے ایک نامناسب طریقہ ہے     
  • انسان کو کمزور کرنے کے دورِ حاضر کے جدید و پیچیدہ طریقے
  • تمام انسانوں میں خدائی صفات کا حامل بننے کی صلاحیت موجود ہے
  • دین کا ہدف تمام انسانوں کا مظہرِ صفاتِ الٰہی بننا ہے  
  • انسان اپنی قدر و قیمت کی پہچان میں غلطی کا شکار ہو جاتا ہے
  • کمزوری کا احساس انسان کے نیک بننے کا سبب نہیں ہو سکتا
  • انسانوں کے باہمی اختلافات کا کس طرح انتظام و تدبیر کی جائے؟
  • انسان میں اتنی طاقت اور احساسِ ذمہ داری ہونا چاہیے کہ وہ کسی پر ظلم کر ہی نہ سکے
  • امام کی پیروی کے لیے ہمیں امام جیسی خصلتیں اپنانی ہوں گی
  • پیغمبرِ اکرم (ص) کے ساتھ امیرالمؤمنین (ع) کے تعلق کی ایک مثال
  • کبھی کبھار انسان کی غیر معمولی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا
  • وہ عظیم انسان جن کے سپرد بظاہر چھوٹے کردار تھے
  • اولاد کو قابو میں رکھنے کے لیے ان کی تحقیر کرنا ایک ناپسندیدہ عمل ہے
  • انسان کی نگہداشت اور نظم و ضبط کے لیے دین کا لائحۂ عمل کیا ہے؟
  • انسان میں اتنی سمجھ بوجھ اور شعور ہونا چاہیے کہ اسے بیرونی کنٹرول کی ضرورت ہی نہ رہے
  • ہمیں کن امور میں امام سے مشابہت پیدا کرنی چاہیے؟
  • خلیفۃ اللہ ہونا؛ وہ سب سے اہم امر جس میں امام سے مشابہت ضروری ہے
  • قرآن چاہتا ہے کہ جن لوگوں کو کمزور بنا دیا گیا ہے انہیں پیشوا و امام بنائے
  • کیا خلیفۃ اللہ بننے کی کوشش تکبر کا باعث نہیں بنتی؟
  • تکبر کے خاتمے اور سماجی ذمہ داری کی تعلیم میں نماز کا کردار
  • بہت سے قابل اور باصلاحیت افراد کو چھوٹے کردار سونپ دیے جاتے ہیں
  • دین میں انسان کی ذمہ دارانہ تربیت اور اجتماعی احساسِ ذمہ داری
  • معاشرے کے تمام افراد میں معاشرے کے تئیں ایک صدرِ مملکت جیسا احساسِ ذمہ داری ہونا چاہیے

نواں جلسہ | (۱۴۰۳/۰۸/۲۵): کریم اور باوقار انداز میں حکومت چلانے اور مہدوی نسل کی تربیت کے لیے پیغمبرِ اکرم (ص) کا نمونۂ عمل

فہرست:

  • پیغمبرِ اکرم (ص) کے اسوہ و نمونہ ہونے پر زیادہ گہری توجہ
  • ہمیں کن مقامات پر پیغمبر (ص) کے اسوہ ہونے کو زیادہ مدنظر رکھنا چاہیے؟
  • پیغمبرِ اکرم (ص) کے معاشرہ چلانے کے طریقہ کار کی اہمیت
    • مہدوی نسل کو معاشرے کے تئیں حساس اور ذمہ دار ہونا چاہیے
    • دنیا کا نظم و نسق چلانے کے لیے ایک نسل کی تربیت
    • کیا دنیا کا نظام سنبھالنے (حکّامِ زمین بننے) کے لیے تربیت غرور کا باعث نہیں بنتی؟
  • پیغمبر اکرم(ص) افراد کی تربیت و ارتقاء کے لیے ان کے ساتھ کریمانہ سلوک فرماتے تھے
  • جس مسلمان کو بھی اقتدار اور طاقت حاصل ہو، اسے کریمانہ رویہ اپنانا چاہیے
  • رسول اکرم(ص) کے کریمانہ برتاؤ کی چند مثالیں
  • پیغمبر اکرم(ص) کے اندازِ حکمرانی و انتظام کو سیکھنے کی ضرورت
  • پیغمبر اکرم(ص) کی سیرت میں مؤمنانہ اجتماعی زندگی کی اہمیت
  • دین کی مدنظر "دولتِ کریمہ" (کریم حکومت) کا مشاہدہ اس کے تمام اجزاء میں ہونا چاہیے
  • رسول اکرم(ص) کے بلند ترین طرزِ عمل کو نمونۂ عمل بنانا چاہیے
  • نظامِ حکومت چلانے کا انداز، پیغمبر اکرم(ص) کا سب سے اعلیٰ طرزِ عمل تھا
  • ہمیں ایثار و قربانی سے لبریز زندگی کی طرف قدم بڑھانا چاہیے
  • مؤمنانہ اجتماعی زندگی کے قیام کے لیے بڑے پیمانے پر مل کر کوشش کرنی چاہیے
  • کریمانہ اور باوقار سلوک کو قوت و طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے    

دسواں اجلاس | (1403/09/03): دین کے سماجی نقطۂ نظر کی بنیاد پر مہدوی نسل کی تربیت

فہرست:

  • بچوں کی سماجی اور معاشرتی تربیت کی ضرورت
  • انفرادی تربیت، سماجی تربیت کی ضرورت کا اصل سرچشمہ
  • زندگی، سماجی اور اجتماعی حیات کے بغیر ممکن نہیں
  • معاشرے میں جینے کے لیے دینداری کا ہونا ناگزیر ہے
  • ہم عمر افراد کا ماحول، نوجوان کی بنیادی فکر اور دلی لگاؤ
    • بچوں اور نوجوانوں کا ماحول سماج محور ہوتا ہے
  • بچے سماجی نقطۂ نظر کے ذریعے دین کی ضرورت کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں
  • دین کو سماجی زاویے سے دیکھنے کے فوائد
  • خالصتاً انفرادی دینداری کا اصل اور حقیقی دین سے انحراف پر اثر
  • دینداری کی خاطر سماجی تربیت کی راہ میں بچوں کی پرورش کے مراحل
  • بڑے خاندانوں میں اجتماعی زندگی کی حقیقت کا دل سے قبول ہونا
  • لوگوں کے ایک دوسرے کے کام آنے کے لیے کائنات میں باہمی تعاون کے نظام کا قیام
  • بچے کو ظلم اور ظالم کے حقیقی معنی سے روشناس کرانا چاہیے
  •  قانون؛ ظلم کے سامنے ایک کمزور ہتھیار ہے
  • خدا کن چیزوں میں اور کتنی مدد و نصرت فرماتا ہے؟
  • ہمیں انفرادی زندگی میں خود غرض اور خواہشاتِ نفسانی کا پجاری نہیں بننا چاہیے
  • خواہش پرستی اور خود غرضی، مواسات و ہمدردی پر مبنی زندگی کی راہ میں بڑی رکاوٹ
  • انفرادی زندگی کا فروغ، پالیسی سازوں اور سیاست دانوں کی طرف سے ایک دانستہ جرم
  • مجالسِ عزائے فاطمی(س) اور حسینی(ع)، ظلم سے نجات پانے کی ہماری بیداری کی دلیل
  • مہدوی معاشرہ؛ وہ معاشرہ جہاں کوئی ظلم و ستم نہیں ہوگا

گیارہواں اجلاس | (1403/09/09): عصرِ مہدوی میں نوجوان کی تربیت

فہرست:

  • ائمہ معصومین(ع) کے فرامین، ہدایت کے چمکدار اور پائیدار ستاروں کی مانند ہیں
  • امیر المؤمنین(ع) کی نوجوان کے بارے میں دو احادیث
  • نوجوان کو فکری بحث، مکالمے اور مناظرے کا اہل ہونا چاہیے
  • تخلیقی صلاحیت اور نیا اچھوتا نکتہ نوجوان سے سنیں
  • نوجوان کی ایسی تربیت ہونی چاہیے کہ وہ اظہارِ رائے کی ہمت اور جرات رکھے
  • معاشرے کا تربیتی سفر کیسا ہونا چاہیے؟
  • ہماری اس بحث کا زمانۂ ظہور سے تعلق
  • امامِ زمانہ (عج) کو محض آنکھیں بند کر کے اطاعت کرنے والا ساتھی نہیں چاہیے
  • مسجد کے ایک بااثر اور مضبوط امام جماعت کی خصوصیات
  • ظہور کے وقت کربلا کے نمونۂ عمل کا نفاذ
  • پیغمبر اکرم(ص)؛ تاریخ کے سب سے زیادہ ذمہ دار اور مشورہ کرنے والے رہنما
  • حکمت کیسے سکھائی جاتی ہے؟
  • نوجوان فکری آمریت اور استبداد سے کیسے آزاد ہوتا ہے؟
  • مہدوی نسل کی تربیت کی 2 اہم خصوصیات
  • ہمارا معاشرہ نوجوان کو کس طرح نقصان پہنچا رہا ہے؟
  • ویڈیو گیمز (کمپیوٹر گیمز) سے متعلق رہبرِ معظم کا نقطۂ نظر
  • اسکول کے اسباق پڑھانے میں کھیلوں کا اثر
  • ہمارے معاشرے میں تشہیر، ثقافت اور طرزِ زندگی کا معیار کیسا ہے؟
  • حضرت زہرا(س) کا خطبہ، دینی تربیت کا ایک مکمل نصاب
 

آڈیو | مہدوی نسل کی تربیت

Now Playing (1 / 22)

معرفت به امام زمان(عج) و شناخت آخرالزمان

00:0000:00
58:17
63:30
41:40
47:34
49:12
31:20
54:02
48:07
39:01
45:08
36:17
40:24
50:44
38:10
60:39
39:55
49:56
47:10
71:23
57:17
56:14
56:33

Your feedback on this article

Share your thoughts, suggestions, or comments regarding this article.

متعلقہ مضامین

HomeSpeechesVideosBooksSchedule