صوتی کلپ | اپنے آپ کو بھی انسان سمجھو!
صوتی کلپ | اپنے آپ کو بھی انسان سمجھو!
تفصیلات:
- پیشکش: بیان معنوی
- دورانیہ: 04:21
- ماخذ: خود آگاہی، حرکت اور قوت کا آغاز - آٹھواں جلسہ
دورانیہ: |ڈاؤن لوڈ مع معیار: [کم(2MB) | درمیانہ(4MB) | اعلیٰ(10MB)]
متن:
انسان کو احساسِ کمتری اور خود تحقیری کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ یہ کہنا کہ "اب مجھ سے کچھ نہیں ہو سکتا، میں تو کسی قابل نہیں رہا" اور اس طرح خود کو ذلیل و خوار سمجھنا قطعاً درست نہیں۔ روایات میں آیا ہے کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ "میں کسی مقام تک نہیں پہنچ سکتا"، وہ ہر چیز سے محروم ہو جائے گا۔ انسان کو خود تحقیری کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
بہت سے لوگ خدا سے مناجات کے لیے اس لیے ہاتھ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ اپنے آپ کو کوئی انسان ہی نہیں سمجھتے! ہاں، اولیاءِ خدا درِ خدا پر جا کر عرض کرتے ہیں کہ بارِ الٰہا! «إرحَم عبدکَ الذّلیل»، اپنے اس ذلیل و حقیر بندے پر رحم فرما۔ لیکن اس "ذلیل" کا مطلب کیا ہے؟ اگر تم خود کو اس قدر برا سمجھو، اتنا بے وقعت اور اس حد تک حقیر جانو کہ پھر اپنے لیے دعا مانگنا ہی چھوڑ دو، درِ خدا پر جانا ہی ترک کر دو، اور اپنے آپ کو اس لائق ہی نہ سمجھو کہ جا کر خدا سے راز و نیاز کرو! بھلا آج ہم کیوں سنجیدگی سے درِ خدا پر آنسو بہا کر ظہور کی التجائیں نہیں کرتے؟ کیونکہ ہم سوچتے ہیں: "ہماری بھلا اس کائنات میں حیثیت ہی کیا ہے؟! ہم کون ہوتے ہیں؟ کیا خدا ہمیں دیکھتا بھی ہوگا؟" تمہیں اپنے آپ کو غیر اہم اور بے وقعت نہیں سمجھنا چاہیے!
اس وقت خدا چشم براہ ہے اور راہ تک رہا ہے کہ میں واپس پلٹوں، توبہ کروں اور اس کے قریب ہو جاؤں! جب وہ مجھے پلٹتے ہوئے دیکھتا ہے تو ایسا لگتا ہے—اور یہ روایت میں آیا ہے—جیسے اس کی کوئی گمشدہ چیز مل گئی ہو! میں خدا کے لیے اہم ہوں! میری دعا خداوندِ متعال کے نزدیک اہمیت رکھتی ہے۔ میرے بندے نے کیا کہا؟ ظہور کے بارے میں اس کی کیا رائے تھی؟ اس نے کوئی رائے نہیں دی... کیا خدا نے میری رائے پوچھی؟! جی ہاں، خدا آپ کی رائے پوچھتا ہے! کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے بارے میں وہ منفی اور بدگمانی والا نظریہ تم پر غالب آ جائے۔
آپ کہیں گے کہ جناب! کیا آپ ہی نہیں کہتے کہ ہمیں متواضع رہنا چاہیے، خود کو کچھ نہیں سمجھنا چاہیے اور مغرور نہیں ہونا چاہیے؟ جی ہاں، مغرور تو واقعی نہیں ہونا چاہیے۔ میرے عزیز! اگر تم خود کو کسی ایسے راستے سے عظمت تک پہنچانا چاہو جو غلط راستہ ہے، تو یہ تکبر کہلاتا ہے۔ لیکن یہ جذبہ کہ "میں عظیم انسان بننا چاہتا ہوں"، یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے۔ انسان اس لیے عظیم بننا چاہتا ہے تاکہ وہ خدا کے شایانِ شان بن سکے اور لقائے الٰہی کو پا سکے۔ غلط سمت میں جانا بری بات ہے۔ ورنہ آپ خدا کے نزدیک اہم ہیں۔
"جناب! ہم تو گناہگار ہیں، بھلا ہماری کیا اہمیت ہے؟!" میرے عزیز! اگر تم ابھی عظیم نہیں بھی بنے، تب بھی تم اہم ہو۔ ایک نالائق اور شرارتی بچہ بھی جانتا ہے کہ وہ اپنی ماں کے لیے کتنا اہم ہے۔ وہ بچہ جو امتحان میں فیل ہو جاتا ہے، سوچتا ہے کہ "اب میں امی کو جا کر کیا بتاؤں گا؟ امی تو صدمے سے نڈھال ہو کر رونے لگیں گی۔" لیکن ہم اپنے بارے میں اتنی حقارت اور کمتری کا گمان کر لیتے ہیں گویا اب ہمارا انتظار کرنے والی کوئی ماں ہے ہی نہیں جو ہمارے لیے روئے! یہ سوچ انتہائی غلط ہے۔ آپ خدا کے نزدیک اہم ہیں۔ "جناب! ہم تو گناہگار ہیں، ہم خاک اہم ہیں؟!" میرے عزیز! تم اتنے اہم ہو کہ جب تم استغفار شروع کرتے ہو تو خداوندِ متعال فرماتا ہے: میرے بندوں سے کہہ دو کہ جب وہ استغفار کرتے ہیں، میری طرف پلٹتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں، تو گویا میری حالت اس شخص جیسی ہو جاتی ہے جس کا صحرا میں زادِ راہ اور پانی گم ہو گیا ہو اور وہ اچانک اسے مل جائے۔ بارِ الٰہا! کیا تو محتاج ہے؟! فرماتا ہے: میں محتاج نہیں ہوں، لیکن مجھے اپنے اس بندے سے اس قدر الفت اور اشتیاق ہے اور اس کا مقدر میرے نزدیک اس قدر اہم ہے!
خدا کے نزدیک فرعون تک اس قدر اہم تھا کہ اس نے فرمایا: اے موسیٰ! اس سے نرم لہجے میں بات کرنا، اس نے سرکشی کی ہے اور مانتا نہیں، لیکن تم اس انداز سے بات کرو کہ وہ قائل ہو جائے۔ خدایا! تیرے نزدیک فرعون اہم ہے یا موسیٰ؟! تو موسیٰ کو حکم دیتا ہے کہ فرعون کے سامنے نرمی برتو! ایک نالائق بچہ بھی جانتا ہے کہ وہ اپنی ماں کے لیے کتنا اہم ہے۔
ابلیس آ کر کیا کہتا ہے؟ وہ کہتا ہے: "خدا تو تمہاری طرف دیکھتا تک نہیں!" ابلیس کی یہ مجال! خدا تو ہر لمحہ منتظر ہے کہ کیا میں پلٹ کر آتا ہوں یا نہیں؟ میں خدا کے لیے اہم ہوں!
صوتی کلپ | اپنے آپ کو بھی انسان سمجھو!
Now Playing (1 / 1)
خودت رو آدم حساب کن!
Your feedback on this article
Share your thoughts, suggestions, or comments regarding this article.