آڈیو کلپ | جمعہ کی شام دل اداس ہو جاتا ہے؟
آڈیو کلپ | جمعہ کی شام دل اداس ہو جاتا ہے؟
اس بہترین موقع سے فائدہ اٹھاؤ!
شناخت نامہ:
- پیشکش: بیان معنوی
- دورانیہ: 02:00
- ماخذ: حالِ خوب - تئیسواں جلسہ
دورانیہ: |ڈاؤنلوڈ مع معیار: [کم(1MB) | درمیانہ(2MB) | بہترین(4MB)]
متن:
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: «اَلْمُؤْمِنُ لاَ یَمْضِی عَلَیْهِ أَرْبَعُونَ لَیْلَة إِلَّا عَرَضَ لَهُ أَمْرٌ یَحْزُنُهُ وَ یَذَّکَّرُ بِهِ»؛ آپؑ فرماتے ہیں کہ مؤمن پر چالیس دن نہیں گزرتے مگر یہ کہ اس کے ساتھ کوئی ایسا ناگوار واقعہ پیش آتا ہے جس سے اس کا دل اداس اور بوجھل ہو جاتا ہے، تاکہ دل کی یہ اداسی اسے خدا کی طرف متوجہ کر دے۔
بعض لوگ جب جمعہ کی شام ہوتی ہے تو کہتے ہیں: ”اف! پھر وہی جمعہ کی شام آ گئی اور انسان کا دل اداس ہو گیا!“ بھئی، دل کی اس اداسی اور کیفیت کا بھی تو ایک مقصد ہے، اس اداسی کو صحیح جگہ استعمال کرو، نہ یہ کہ اس سے بھاگنے کی کوشش کرو۔ جمعہ کی شام اگر کسی کا دل اداس ہو جائے تو اسے تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
جمعہ کی شام انسان سے گویا پکار کر کہتی ہے کہ بھئی، ایک ہفتہ تو بیت گیا! اچھا، پھر اس کے بعد کیا؟ اب دوبارہ ایک نیا ہفتہ شروع ہو رہا ہے، پھر اس کے بعد کیا؟ آخر کب تک تم نے اسی ڈگر پر چلتے رہنا ہے؟ کب تک خود کو فضول چیزوں میں بہلاتے رہو گے؟ شاید جمعہ کی شام کی اسی اداسی میں اچانک انسان کو اپنی زندگی کے فلسفے کا ادراک ہو جائے۔ اچانک وہ اپنی زندگی کے مقصد کے لیے اپنا فیصلہ بدل ڈالے۔ اچانک جمعہ کی شام دل کے اس بوجھل پن میں وہ یہ سمجھ جائے کہ امام زمانہ (ارواحنا لہ الفدا) کے سوا کوئی بھی چیز اس کے کام آنے والی نہیں ہے۔
جب کبھی تنہائی اور پردیس کے احساس سے تمہاری حالت بکھرنے لگے اور دل اداس ہو جائے، تو تم خود میں کیوں سمٹ جاتے ہو؟ دوسروں سے شکوے شکایتیں کیوں کرنے لگتے ہو؟ اللہ کی چوکھٹ پر جاؤ اور عرض کرو: پروردگار! تیرے سوا میرا کوئی نہیں ہے۔ اس شاندار موقع سے فائدہ اٹھاؤ!
Video / Embedded Media
Your feedback on this article
Share your thoughts, suggestions, or comments regarding this article.