متحجرانہ پستی؛ مفکرانہ لچک پذیری - ج۱ | اپنے زمانے کے مسائل کو تمام انبیاء کے زمانے کے مسائل سمجھیں / تحجر (جمود) کا کیا مطلب ہے؟

بیان‌ها :: متن بیان‌ها :: اخلاق و معنویت
Share:
متحجرانہ پستی؛ مفکرانہ لچک پذیری - ج۱ | اپنے زمانے کے مسائل کو تمام انبیاء کے زمانے کے مسائل سمجھیں / تحجر (جمود) کا کیا مطلب ہے؟
متحجرانہ پستی؛ مفکرانہ لچک پذیری - ج۱

اپنے زمانے کے مسائل کو تمام انبیاء کے زمانے کے مسائل سمجھیں / تحجر کا کیا مطلب ہے؟

شناختی معلومات:

  • تاریخ: ۱۴۰۲/۰۴/۱۶
  • مقام: امام صادق (ع) یونیورسٹی، ہیئت میثاق با شہداء
  • موضوع: متحجرانہ پستی؛ مفکرانہ لچک پذیری
  • آڈیو: یہاں
استاد علی رضا پناہیاں نے محرم کے پہلے عشرے میں امام صادق(ع) یونیورسٹی کی مسجد میں "متحجرانہ پستی؛ مفکرانہ لچک پذیری" کے موضوع پر خطاب کیا۔ ذیل میں اس سلسلے کے پہلے جلسے کے منتخب اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:

اپنے زمانے کے مسائل کو تمام انبیاء کے زمانے کے مسائل سمجھیں

ہمیں اپنے زمانے کے مسائل کو تمام انبیاء علیہم السلام کے زمانے کے مسائل سمجھنا چاہیے، تاکہ ہماری معرفت کی کتاب مزید وسیع ہو جائے اور دین کے بارے میں ہماری نگاہ زیادہ گہری اور بصیرت افروز ہو سکے۔ اگر ہم اس زاویے سے دیکھیں تو ان شواہد اور دستاویزات کا دائرہ کار جن سے ہم اس پیارے دین کو سمجھنے، اس سے لطف اندوز ہونے اور اس دین کے بارے میں غلطی نہ کرنے کے لیے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، بے انتہا وسیع ہو جائے گا۔

تحجر (جمود پسندی) کا کیا مطلب ہے؟

قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کو مدنظر رکھتے ہوئے: (ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ فَهِیَ کَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهَارُ؛ سورہ بقرہ، آیت 74) وہ مومنین جنہوں نے معجزات دیکھے ہیں، وہ مومنین جو حوادث کے طوفانوں میں تپ کر کندن بنے ہیں اور وہ مومنین جنہوں نے خدا کی آیات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ہے، ان کا دل بھی پتھر کی مانند سخت ہو سکتا ہے۔ اسے ہم "تحجر" (جمود و سنگ دلی) کہتے ہیں۔ یہ کتنی قابل غور بات ہے کہ مومنین الٰہی معجزات دیکھنے کے بعد بھی قسی القلب اور متحجر ہو جاتے ہیں۔

تحجر فکری بھی ہو سکتا ہے اور قلبی بھی۔ البتہ فکری تحجر بھی قلبی تحجر سے ہی جنم لیتا ہے۔ یہ جو انسان کے سامنے کوئی منطقی بات کی جائے اور وہ سختی سے اڑ جائے کہ "نہیں، میں نہیں مانتا! میں قبول نہیں کرتا!" یہ فکری تحجر ہے؛ ذرا دیکھیے تو اس کے دل کی کیا کیفیت ہے؟! فکری تحجر دراصل قلبی تحجر کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔

تحجر سے دور رہنے کی اہمیت

ایک اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے: «فَمَنْ یُرِدِ اللَّهُ أَنْ یَهْدِیَهُ» جسے اللہ ہدایت دینا چاہے «یَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ» اس کے سینے کو اسلام کے لیے کشادہ کر دیتا ہے «وَمَنْ یُرِدْ أَنْ یُضِلَّهُ» اور جسے وہ گمراہ کرنا چاہے—یعنی خدا اس سے ناراض ہے، اسے گمراہی میں چھوڑ دینا چاہتا ہے کیونکہ اس میں کوئی برائی دیکھی ہے اور اسے تباہ کرنا چاہتا ہے؛—«یَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَیِّقًا حَرَجًا» تو اللہ اس کے سینے کو ایسا تنگ اور سخت بنا دیتا ہے جیسے پتھر ہو جائے، «کَأَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَاءِ» گویا وہ شدید گھٹن کے دباؤ سے پھٹ کر آسمان کی طرف چڑھ رہا ہو۔
پھر فرماتا ہے: «کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللَّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِینَ لَا یُؤْمِنُونَ(انعام، 125)» یہ وہی پلیدی ہے جو اللہ ان لوگوں پر مسلط کرتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ یہ مت سمجھیے کہ "ایمان نہیں لاتے" کا مطلب یہ ہے کہ وہ سرے سے ایمان ہی نہیں لائے! نہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی ایمان لائے تھے اور ہمارے ہی جیسے لوگ ہیں۔ اس بحث کی اہمیت کیا ہے؟ اگلی آیت میں فرماتا ہے: «وَهَذَا صِرَاطُ رَبِّکَ مُسْتَقِیمًا(انعام، 126)» یہی شرح صدر تو صراط مستقیم ہے۔

دین ایک لچک دار اور رواں حقیقت ہے

دین کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ احکامات کا ایک مجموعہ تھما دیا جائے اور انسان آنکھیں بند کر کے ان پر اندھا دھند عمل کرتا رہے۔ انسان کو پوری بصیرت سے دیکھنا ہوتا ہے کہ کس لمحے کس دینی حکم کو فی الوقت روکنا ہے اور کس حکم کو کس پر ترجیح دینی ہے؟ ہر بار کس بے دینی پر سختی کرنی ہے اور کس بے دینی پر چشم پوشی یا نرمی برتنی ہے؟ دین لچک دار ہے۔ دین ایک رواں اور متحرک دھارے کی مانند ہے، اگر آپ اس کی روانی اور سیالیت کو نہ سمجھیں تو خود دین ہی کے نام پر سنگ دل اور قسی القلب بن جائیں گے، پتھر کی مانند سخت ہو جائیں گے۔

تحجر، معاشرے میں دین سے دوری کا سب سے بڑا سبب

حقیقت یہ ہے کہ دین کے بارے میں بعض تصورات سراسر غلط ہیں، اور ہمارے معاشرے میں دین سے بیزاری اور دوری کا سب سے بڑا سبب یہی تحجر اور تنگ نظری ہے! جتنا بیزار متحجرین لوگوں کو دین سے کرتے ہیں، کوئی دوسرا نہیں کرتا۔ اللہ کا دین تو خوبصورت ہے، دلکش ہے، محبت سے بھرپور ہے، عشق ہے، آسان ہے؛ حقیقت تو یہ ہے کہ دین انتہائی شاندار اور لاجواب ہے!

Your feedback on this article

Share your thoughts, suggestions, or comments regarding this article.

متعلقہ مضامین

HomeSpeechesVideosBooksSchedule