آزاد اندیشی کا فن - نواں جلسہ/ دوسرا حصہ | آزاد اندیشی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ / حقیقت کا عاشق ہونا ضروری ہے / آزاد اندیشی کی اجتماع میں مشق کرنی چاہیے

بیان‌ها :: متن بیان‌ها :: اخلاق و معنویت
Share:
آزاد اندیشی کا فن - نواں جلسہ/ دوسرا حصہ | آزاد اندیشی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ / حقیقت کا عاشق ہونا ضروری ہے / آزاد اندیشی کی اجتماع میں مشق کرنی چاہیے
آزاد اندیشی کا فن | نواں جلسہ/ دوسرا حصہ

 آزاد اندیشی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ / حقیقت کا عاشق ہونا ضروری ہے / آزاد اندیشی کی اجتماع میں مشق کرنی چاہیے

شناخت نامہ:

  • مقام: یونیورسٹی آف آرٹس (دانشگاه هنر)
  • تاریخ: ۲۵ جولائی ۲۰۲۴ (۱۴۰۳.۰۵.۰۴)
  • مناسبت: محرم الحرام ۱۴۰۳

۱۔ حقیقت کا عاشق ہونا چاہیے

آزاد اندیشی ایک فن ہے، اور ہر اس چیز کو فن کہا جاتا ہے جو پیچیدہ اور نازک ہو۔ آزاد اندیش بننے کے لیے انسان کو کیا کرنا چاہیے؟ آزاد اندیشی کے بارے میں دی جانے والی تمام ہدایات ریاضی یا انجینئرنگ کے طے شدہ اور خشک فارمولے نہیں ہیں، بلکہ انہیں ایک فنکارانہ مہارت اور سلیقے کے ساتھ بروئے کار لانا پڑتا ہے، کیونکہ یہ مرحلہ نہایت پیچیدہ ہے۔

آزاد اندیشی کے ساتھ انسانی دل کا تعلق کیسا ہے؟ اگر دل حقیقت کا عاشق بن جائے اور سچائی کے علاوہ کسی بھی دوسرے مقام پر نہ رکے، تو حقیقت کی یہی تڑپ اور محبت انسان کو گہرے غور و فکر پر آمادہ کرتی ہے۔ یہی مسلسل فکری جستجو انسان کو تمام تر رکاوٹوں، سطحی، سرسری اور غلط نتائج سے گزار کر اصل اور حقیقی نتیجے تک پہنچا دیتی ہے۔ لیکن اگر آپ کا دل کسی خاص نتیجے ہی کو ثابت کرنا چاہتا ہو، تو پھر آپ آزاد اندیش نہیں رہے، کیونکہ آپ کی سوچ جانبدار ہو چکی ہے۔ نفسیات کی اصطلاح میں اسے فکری تعصب (Cognitive Bias) کہتے ہیں؛ یعنی آپ کا ذہن پہلے سے مائل ہو چکا ہے اور ایک مخصوص نتیجے کا خواہاں ہے۔ حدیث شریف کا ارشاد ہے: «حُبُّکَ اَلشَّیْءَ یُعْمِی وَ یُصِمُّ (من لایحضره الفقیه، ج۴، ص۳۸۰)»؛ کسی چیز کی محبت انسان کو اندھا اور بہرا کر دیتی ہے۔

۲۔ مثبت اور پسندیدہ میلانات کو متوازن طریقے سے پورا کیا جائے

آزاد اندیشی کے لیے ضروری ہے کہ انسان نے اپنے دل کے تمام پاکیزہ اور اچھے میلانات کو متوازن انداز میں پورا کیا ہو، تاکہ باطن میں ایک خوشگوار توازن قائم ہو سکے۔ جب آپ اپنے دل کے تمام مثبت تقاضوں کو ان کا جائز حق دیتے ہیں، تو آپ کے اندر ایک قلبی توازن و اعتدال پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے بعد آپ ہر قسم کے بیرونی دباؤ اور کھنچاؤ سے آزاد ہو جاتے ہیں۔

۳۔ آزاد اندیشی کی اجتماع میں مشق کرنی چاہیے

اجتماعی زندگی اور معاشرے میں کچھ ایسے اصول و ضوابط پائے جاتے ہیں جن کی پاسداری کر کے انسان آزاد اندیشی کا ملکہ حاصل کر سکتا ہے۔ اجتماع کے درمیان آزاد اندیشی کی مشق کا ایک اہم پہلو مخالف رائے کو برداشت کرنا (تحملِ مخالف) ہے۔ دوسرا نکتہ، جو پہلے سے بھی زیادہ لطیف اور گہرا ہے، وہ یہ ہے کہ انسان اجتماع کے درمیان رہے لیکن ہجوم اس کے دل کو نہ چرا لے؛ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اجتماع دل پر کوئی منفی اثر نہ ڈال سکے، البتہ مثبت اثرات قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

معاشرے میں ایک اور زبردست اور بے نظیر مشق یہ ہے کہ انسان دوسروں کے بارے میں فیصلے نہ صادر کرتا پھرے، یا دوسروں کو خود سے بہتر سمجھے، اور حسد سے پاک رہے! یہ تمام اخلاقی اصول باطنی آزادی کے لیے ہیں۔ اگر آپ اجتماع کے درمیان ان باتوں کا خیال رکھیں گے، تو رفتہ رفتہ فکر کی غلامی اور اسارت سے نجات پا لیں گے۔
آزاد اندیشی کے لیے ضروری ہے کہ انسان دوسروں کی داد و تحسین اور تعریف سے بھی بے پروا ہو۔ ایک سچے فنکار کو بھی تعریف کے نشے سے آزاد ہونا چاہیے؛ وہ اجرت اور وقتی فیشن کی قید سے بھی ماورا ہوتا ہے۔ فنکار کسی ایسے مخصوص سانچے کا اسیر نہیں بنتا جو وقتی طور پر فیشن بن چکا ہو۔ ایک فنکار کو ان تمام بندھنوں سے آزاد ہونا چاہیے تاکہ وہ سچے معنوں میں آزاد اندیش بن سکے۔

 

Your feedback on this article

Share your thoughts, suggestions, or comments regarding this article.

متعلقہ مضامین

HomeSpeechesVideosBooksSchedule