آزاد اندیشی کا فن / دسواں سیشن | کیا دینی عقائد، ایک طرح کی کٹر پسندی (جزم اندیشی) نہیں ہیں؟

بیان‌ها :: متن بیان‌ها :: اخلاق و معنویت
Share:
آزاد اندیشی کا فن / دسواں سیشن | کیا دینی عقائد، ایک طرح کی کٹر پسندی (جزم اندیشی) نہیں ہیں؟
آزاد اندیشی کا فن | دسواں سیشن

کیا دینی عقائد ایک طرح کی کٹر پسندی (جزم اندیشی) نہیں ہیں؟ / ایمان، ایک اچھا اور پرسکون احساس ہے، نہ کہ کٹر پن / ایمان اور اعتقاد میں فرق ہے / جزم اندیشی سے بچنے کے لیے سوچنے کے بنیادی اصولوں پر عمل ضروری ہے / اگر کوئی فکر کے اصولوں کی پابندی کرے تو وہ خدا تک پہنچ جائے گا

شناختی کوائف:

  • مقام: دانشگاہِ ہنر (یونیورسٹی آف آرٹس)
  • تاریخ: 26 جولائی 2024
  • مناسبت: محرم الحرام 1446ھ

کیا دینی عقائد، ایک طرح کی کٹر پسندی (جزم اندیشی) نہیں ہیں؟

ایک اہم ترین وجہ جس کی بنا پر ہمیں آزاد خیالی اور آزاد اندیشی پر گفتگو کرنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ ہم مذہبی لوگ ہیں اور مذہب کے پاس جو کچھ ہے اس کے ایک حصے میں ایک طرح کا جزم اور کٹر پن پایا جاتا ہے۔ جب آپ دیندار بنتے ہیں تو خدا کے حکم کی پیروی کرتے ہیں اور اپنی ذاتی پسند و ناپسند کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ بظاہر یہاں آزاد فکری کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ یا جب آپ کچھ عقائد کو تسلیم کر لیتے ہیں تو پھر ان سے دستبردار نہیں ہوتے، اور دور سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مذہب کا آزاد فکری سے کوئی تعلق ہی نہیں؛ جیسا کہ آج کل یہ بات مشہور ہو چکی ہے۔

ایمان، ایک اچھا اور پرسکون احساس ہے؛ نہ کہ جزم اندیشی

اولاً عقائد کے بارے میں یہ کہنا چاہیے کہ قرآن مجید میں جو بات پیش کی گئی ہے وہ محض خشک عقائد کی بحث نہیں ہے، بلکہ ایمان کی بحث ہے۔ ایمان، عقیدے کا اثر ہے، ایک سالم اور درست فکر کا اثر ہے جو دل میں اترتا ہے اور انسان کو قلبی سکون، تحفظ اور طمانیت بخشتا ہے۔ انسان کا ایک اچھا اور پرسکون احساس پانا بہت ہی عمدہ چیز ہے، یہ جزم اندیشی یا کٹر پن نہیں ہے۔ یہ ایک پاکیزہ احساس ہے؛ بالکل شجاعت اور سخاوت کے احساس کی طرح۔ ایمان، جزم اندیشی سے بالکل مختلف ہے۔ دین میں جو چیز بنیادی طور پر مطلوب ہے وہ محض عقیدہ نہیں بلکہ ایمان ہے۔

ایمان اور محض اعتقاد میں فرق ہے

دوسری وضاحت یہ ہے کہ بعض لوگوں کے عقائد تو درست ہوتے ہیں لیکن ان میں ایمان نہیں ہوتا۔ ان لوگوں کے پاس عقیدہ—یعنی عقلی و فکری قطعیت—تو ہوتی ہے لیکن ایمان ان کے دل میں داخل نہیں ہوا ہوتا، چنانچہ بعد میں انہوں نے حق کا انکار کیا اور اس کے خلاف جنگ کی۔ ابو جہل رسول اللہ (ص) کی نبوت پر (ذہنی طور پر) معتقد تھا اور کہتا تھا کہ جب پیغمبر کہتے ہیں کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے تو وہ جھوٹ نہیں بولتے، یقیناً ان پر وحی آتی ہے، لیکن میں اسے مان نہیں سکتا۔ بھئی کیوں نہیں مانتے؟ تم نے خود ہی تو دلیل دی کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے؟ اس کا حسد اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ ایمان اس کے دل میں اتر جائے۔ خداوندِ متعال قرآن میں عقیدے کے حساب کو ایمان سے جدا کرتا ہے؛ اصل معیار ایمان ہے—ایک اچھا اور نورانی احساس، اطمینان و سکون کا احساس۔

جزم اندیشی سے بچنے کے لیے، سوچنے کے بنیادی اصولوں کی پابندی ضروری ہے

اگلی وضاحت یہ ہے کہ سوچنے اور تفکر کے اصول درست ہونے چاہئیں۔ اگر میرے کچھ اصول ہوں اور آپ کے پاس درست فکر کے کچھ اور الگ اصول ہوں تو پھر کوئی بات پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچ سکتی۔ مثال کے طور پر پہلا بدیہی اصول جسے ہمیں باہمی گفتگو کے لیے تسلیم کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ "اجتماع نقیضین محال ہے" (دو متضاد چیزوں کا بیک وقت ایک ہی جگہ جمع ہونا ناممکن ہے)۔ یعنی کلام متناقض اور تضاد کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر اس وقت موسم یا تو گرم ہے یا سرد ہے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ موسم بیک وقت گرم بھی ہے اور سرد بھی۔ سوائے اس کے کہ آپ اس کے پہلوؤں کو بدل دیں؛ کہ اس اعتبار سے گرم ہے اور اس اعتبار سے سرد ہے؛ تب تضاد نہیں رہتا، ورنہ اجتماعِ نقیضین محال ہے۔

اگر کوئی سوچنے کے اصولوں کی پابندی کرے تو وہ خدا تک پہنچ جاتا ہے

ہمیں تفکر کے اصولوں کی رعایت کرنی چاہیے۔ اگر آپ فکر کے صحیح اصولوں کی پابندی کریں گے تو فطری طور پر خدا تک بھی پہنچ جائیں گے۔ یہ ایک سالم و درست فکر کا فطری نتیجہ ہے۔ جب آپ صحیح سمت میں حرکت کرنے والی ایک سالم فکر کے نتیجے تک پہنچتے ہیں تو یہ جزم اندیشی نہیں ہے! بلکہ یہ ایک ترقی یافتہ اور بالیدہ فکر کا مظہر ہے؛ اور اگر کوئی یہاں تک نہ پہنچا ہو تو درحقیقت وہ جزم اندیش اور کٹر ہے، اس کی سوچ میں کہیں نہ کہیں خرابی ہے۔ فکری و ذہنی اعتبار سے خدا پرستی دراصل اسی آزاد اندیشی کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے اصولِ دین میں تقلید جائز نہیں ہے؛ یعنی عقیدہ اور ایمان آزاد اندیشی اور ذاتی فہم و ادراک کا نتیجہ ہونا چاہیے۔

Your feedback on this article

Share your thoughts, suggestions, or comments regarding this article.

متعلقہ مضامین

HomeSpeechesVideosBooksSchedule