متحجرانہ انحطاط، مدبرانہ لچک - ج۲ | تحجر، عاقبت بخیر نہ ہونے کا ایک بنیادی سبب / حق پر ہونے کا غرور، تحجر کا سبب ہے

بیان‌ها :: متن بیان‌ها :: اخلاق و معنویت
Share:
متحجرانہ انحطاط، مدبرانہ لچک - ج۲ | تحجر، عاقبت بخیر نہ ہونے کا ایک بنیادی سبب / حق پر ہونے کا غرور، تحجر کا سبب ہے
متحجرانہ انحطاط، مدبرانہ لچک - ج۲

تحجر، عاقبت بخیر نہ ہونے کا ایک بنیادی سبب / حق پر ہونے کا غرور، تحجر کا سبب ہے

شناختی معلومات:

  • تاریخ: ۱۴۰۲/۰۴/۱۷
  • مقام: جامعہ امام صادق (ع)، ہیئت میثاق با شہداء
  • موضوع: متحجرانہ انحطاط، مدبرانہ لچک
  • آڈیو: یہاں
استاد علی رضا پناہیاں نے محرم کے پہلے عشرے میں جامعہ امام صادق (ع) کی مسجد میں "متحجرانہ انحطاط، مدبرانہ لچک" کے موضوع پر خطابات فرمائے۔ ذیل میں اس سلسلے کی دوسری نشست کا منتخب خلاصہ پیشِ خدمت ہے:

تحجر، عاقبت بخیر نہ ہونے کا ایک بنیادی سبب

انسانوں کے انجام کے خراب ہونے اور عاقبت بخیر نہ ہونے کے اسباب میں سے ایک بنیادی سبب تحجر (فکری جمود اور تعصب) ہے۔ تحجر کی ایک جڑ یہ ہے کہ انسان حق پر ہونے کی وجہ سے اپنے اندر تکبر، عُجب یا غرور محسوس کرنے لگتا ہے۔ مرحوم آیت اللہ شاہ آبادی — جو امام خمینی (رہ) کے استادِ عرفان تھے — مؤمنین کے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ حقانیت کے غرور کو قرار دیتے تھے۔ حقانیت پر غرور کی تعبیر اس دور کی ہے جب مؤمنین غریب الوطن، کمزور اور مظلوم تھے اور غرور کا اتنا موقع بھی نہیں تھا، لیکن آج جبکہ وہ غربت اور کمزوری دور ہو چکی ہے، ہمیں حق پر ہونے کے غرور کے خطرے سے کہیں زیادہ فکر مند رہنے کی ضرورت ہے۔

حق پر ہونے کا غرور، تحجر کا سبب ہے

زمانہ کے لحاظ سے آج ہم حقانیت کے غرور کے خطرے سے زیادہ دوچار ہیں۔ حقانیت کا غرور انسان کے اندر تصلّب اور تحجر پیدا کرتا ہے اور پھر انسان اسی حق کے گردوپیش اور اس کے باریک و پیچیدہ اسرار کو سمجھنے سے قاصر ہو جاتا ہے؛ خصوصاً جب علم اور دین باہم خلط ملط ہو جائیں۔ اہلِ علم بھی ایک خاص قسم کے تکبر اور تحجر کے خطرے میں ہیں اور اہلِ دین بھی ایک دوسرے انداز کے تکبر کے خطرے سے دوچار ہیں۔ عُجب، تکبر ہی کی ایک صورت ہے۔ عجب عبادت کے لیے آفت ہے اور حق کا طرفدار انسان بھی بڑی آسانی سے عجب کا شکار ہو جاتا ہے۔

تکبر اور سرمستی والی خوشی، تحجر کے اسباب میں سے ایک ہے

قرآنِ مجید سورۂ غافر (آیت 83) میں فرماتا ہے: «فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنَاتِ فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِئُونَ»۔ قرآن میں "فَرَح" محض خوشی کا نام نہیں ہے۔ فرح وہ خوشی ہے جو تکبر، بد مستی، نافہمی اور لاپروائی کے ساتھ ہو؛ یعنی بے جا شادمانی۔ آیت فرماتی ہے کہ چونکہ ان کے پاس گزشتہ انبیاء کا کچھ علم تھا، اس لیے ان کے اندر ایک خاص قسم کا پندار اور جھوٹی خوشی پیدا ہو گئی اور وہ حق کو قبول نہ کر سکے، یہاں تک کہ وہ یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ یہ آنے والا پیغمبر، انہی گزشتہ انبیاء کا تسلسل ہے جن کے قصے وہ جانتے تھے۔

حقیقت سے وابستہ سرمائے بھی تحجر کا باعث بن سکتے ہیں

تحجر ایک ہمہ گیر اور عام آزمائش (عام البلویٰ) ہے۔ قرآنی آیات کی روشنی میں جب آپ تحجر کے مفہوم میں وسعت پیدا کریں گے، تو معلوم ہوگا کہ پیغمبرِ اکرمؐ کی دعوت کو انہی لوگوں نے جھٹلایا جو مکہ کے گرد و نواح میں آخری نبی کے انتظار میں بیٹھے تھے اور جانتے تھے کہ وہ کہاں مبعوث ہوں گے اور ان کی نشانیاں کیا ہیں۔ لیکن جب آخری نبی تشریف لائے، تو وہی لوگ جنہیں ان کا انصار و مددگار بننا چاہیے تھا، ان کے بدترین دشمن بن گئے۔ ان لوگوں کے پاس پہلے سے کچھ تھا، اگر کچھ نہ ہوتا تو وہ یوں ہٹ دھرمی اور مزاحمت نہ کرتے۔ امام زمانہ (عج) کے مقابلے میں بھی کچھ لوگ قرآن لے کر آئیں گے! یعنی جس طرح رسولِ خدا (ص) کو ایک خاص نوعیت کے تحجر کا سامنا تھا، امام زمانہ (عج) کو بھی اسی کا سامنا ہوگا۔ امیر المؤمنین (ع) اور امام حسین (ع) کو بھی ایک نوع کے تحجر کا سامنا تھا۔ تحجر کوئی سادہ یا معمولی مسئلہ نہیں ہے۔

ہم سب تحجر کے خطرے کے روبرو ہیں۔ تحجر ہمارے اپنے سرمایوں سے بھی جنم لے سکتا ہے؛ حتیٰ کہ ہمارے اچھے عاطفی اور معنوی سرمایوں سے بھی! اچھے عاطفی سرمائے کی مثال ان لوگوں کی سی ہے جو کربلا میں موجود تھے اور جن کے بارے میں کہا گیا کہ: «قُلُوبُهُمْ مَعَكَ وَسُیُوفُهُمْ عَلَیْكَ» (ان کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں لیکن ان کی تلواریں آپ کے خلاف اٹھی ہوئی ہیں)۔ ہمیں اس سے عبرت لینی چاہیے۔

تحجر، ایک عمومی اور ہمہ گیر مسئلہ

ہمیں تحجر کے مسئلے کو ایک ایسا عمومی مسئلہ سمجھنا چاہیے جو ہر اس شخص کو لاحق ہو سکتا ہے جو کسی بھی درجے میں حق سے آشنا ہوتا ہے۔ ہمیں تحجر کے وسیع تر مفہوم کو سمجھنا ہوگا۔ ہماری بنیادی فکری و علمی خامیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں تحجر صرف کسی خاص قوم کا خاصہ تھا جو کوئی عجیب و غریب لوگ تھے۔ حالانکہ یہ ایک عام آزمائش ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کفر اور بت پرستی کا ذکر ہوتا ہے تو ہم خود بھی ان کے خطرات کی زد میں ہوتے ہیں۔

تحجر سے دوری میں تقویٰ کا کردار

قرآنِ مجید کا یہ انداز ہے کہ وہ سب کو تقویٰ کی دعوت تو دیتا ہے لیکن خود تقویٰ کی حقیقت اور اس کے مقام تک پہنچنے کو ایک گہرے راز میں رکھتا ہے۔ یہ واقعی ایک لاجواب حکمت عملی ہے۔ مثلاً فرماتا ہے کہ روزہ رکھو، شاید تم متقی بن جاؤ۔ اگر آپ عبادت گزار بن جائیں، تو کیا لازماً متقی ہو گئے؟ نہیں! کچھ معلوم نہیں۔ اگر ہم سماجی معاملات میں انصاف پسند بن جائیں، تو کیا بات ختم ہو گئی؟ نہیں! ذرا ٹھہریے۔ «اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ (مائدہ، 8)» انصاف کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اب وہ تقویٰ اصل میں کیا ہے؟ وہ ہمیں بتاؤ! اتنی ڈھیر ساری عبادات، روزے اور نیک کام کرنے کے بعد فرماتا ہے کہ ان شاء اللہ، شاید تم متقی بن جاؤ! اگر میں کسی کو نمازی دیکھوں تو قطعی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ ضرور با تقویٰ ہے۔ تقویٰ کے بارے میں یہ طرزِ عمل کیا سکھاتا ہے؟ یعنی اللہ نے ایک ایسا عنصر مخفی رکھا ہے تاکہ تم کبھی غرور میں مبتلا نہ ہو سکو۔ پھر فرماتا ہے: «إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِینَ (مائدہ، 27)» اللہ تو صرف متقین سے ہی قبول کرتا ہے۔ اچھا ہم نے جو یہ نیک عمل کیا ہے اس کا کیا بنے گا؟ فرماتا ہے کہ یہ تو معلوم ہی نہیں کہ وہ تقویٰ کی بنیاد پر تھا بھی یا نہیں۔ یہ حقیقت انسان کے غرور کو توڑ دیتی ہے اور دل میں ایک خوف پیدا کرتی ہے۔ یہی خوف انسان کو ہمیشہ اپنے جائزے اور اصلاح پر مجبور کرتا ہے اور تحجر کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے۔

Your feedback on this article

Share your thoughts, suggestions, or comments regarding this article.

متعلقہ مضامین

HomeSpeechesVideosBooksSchedule